نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یا نیپرا نے دسمبر کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 74 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا۔

جمعہ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ اضافی چارجز کو دسمبر کے بل میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

بجلی مہنگی ہونے سے صارفین پر 60 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہوگا۔

22 نومبر کو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مطالبہ کیا کہ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو اگلے ماہ 61 ارب روپے بڑھانے کے لیے صارفین سے 4.75 روپے فی یونٹ اضافی ایندھن کی قیمت وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

سی پی پی اے نے کہا کہ اکتوبر میں بجلی کی پیداواری لاگت 5.17 روپے تھی جبکہ اس مدت کے لیے حوالہ ایندھن کی قیمت 9.92 روپے فی یونٹ تھی۔

سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت 30 نومبر کو ہوئی۔

فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ بجلی کے ٹیرف کا ایک جزو ہے۔ بجلی کے ٹیرف یا قیمت میں بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن (فرنس آئل) کے چارجز شامل ہیں۔ بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ سے بلنگ کے وقت لی گئی قیمت مہینے کے دوران مختلف ہوتی ہے۔ یہ اضافہ یا گھٹ سکتا ہے، جس میں ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔

فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ وہ طریقہ کار ہے جو پاور کمپنیوں کو ایسا کرنے اور ایندھن کی لاگت میں کسی بھی جائز اضافے کی وصولی کی اجازت دیتا ہے۔