19

پولیس نے جمعرات کو وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا

پولیس نے جمعرات کو وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے خلاف دہشت گردی اور حکومتی معاملات میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

مقدمہ گجرات کے تھانہ انڈسٹریل ایریا میں شہری نے درج کرایا۔

پہلی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق وزیر داخلہ نے سرکاری اہلکاروں کو ان کے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عدالت اور اس کی عدلیہ ان کی مدد نہیں کرے گی۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ثناء اللہ نے کہا کہ وہ [حکومت] ان ججوں کو گھیرے گی جو پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو فروغ دینے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی ایک پرانی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ‘رانا ثناء اللہ کا بیان عدلیہ، چیف سیکریٹری اور دیگر حکومتی اہلکاروں کو دہشت زدہ کرنا اور انہیں اپنا کام کرنے نہیں دینا تھا تاکہ وہ اپنے عدالتی وعدوں کو پورا نہ کرسکیں’۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وزیر کے بیان سے عدلیہ، حکام، پولیس، بیوروکریسی اور قوم میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

خبر سامنے آنے کے فوراً بعد مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما مونس الٰہی نے کہا کہ وزیر داخلہ کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’آپ عمران خان کے خلاف جھوٹے مقدمات بناتے ہیں، اب پاکستانی قوم نے آپ کے خلاف سچا مقدمہ درج کر لیا ہے‘۔


مسلم لیگ (ق) پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف گزشتہ ہفتے وفاقی دارالحکومت کے ایف نائن پارک میں ایک ریلی میں ایڈیشنل سیشن جج اور اسلام آباد پولیس کے سینئر پولیس افسران کو دھمکیاں دینے کے مقدمے کا حوالہ دے رہی تھی۔

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خان نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری اور پولیس افسران کو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدلیہ کو “دہشت گردی” کرنے کی دھمکی دی جس کے بعد پی ٹی آئی رہنما کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں