16

چینی بحران: حکومت نے چینی کا پورا ذخیرہ فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے

وزیر اعظم عمران خان نے پیر کو کہا کہ حکومت غریبوں پر بوجھ کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے احساس راشن پروگرام، کامیاب پاکستان پروگرام، کسان کارڈ اور دیگر پروگراموں سمیت متعدد سکیمیں متعارف کرائی ہیں۔ .

پرائس کنٹرول سے متعلق عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں چینی کا پورا سٹاک مارکیٹ میں فروخت کے لیے ڈالنے اور 15 نومبر سے ملک بھر میں گنے کی کرشنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس دوران کرشنگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں چینی کی وافر سپلائی موجود ہے۔ اجلاس میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو شوگر مافیا اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف شوگر فیکٹریز (کنٹرول) ترمیمی ایکٹ 2021، پنجاب پریوینشن آف ہورڈنگ ایکٹ 2020 اور پنجاب رجسٹریشن آف گودام ایکٹ 2014 پر عملدرآمد کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا کہ “منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔”

بین الاقوامی مارکیٹ میں اجناس کے بڑھنے اور درآمدی مصنوعات پر پاکستان کے انحصار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت معاشرے کے غریب طبقات پر بوجھ کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ غریبوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے احساس راشن، کامیاب پاکستان، کسان کارڈ، صحت کارڈ اور احساس پروگرام کی دیگر اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت مہنگائی کے اثرات سے بخوبی آگاہ ہے اور عوام کی خدمت پر توجہ دے رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے، اور موثر آگاہی کا آغاز کیا جائے۔

اجلاس میں موجود وزراء اور مشیروں کو چینی کے سٹاک اور قیمتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ بازار میں اجناس کی وافر مقدار دستیاب ہے۔

تاہم سندھ کی شوگر ملز کی بندش کے فیصلے سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء حماد اظہر، فواد چوہدری، خسرو بختیار، فخر امام، فروغ نسیم اور وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں